
مسودہ: ریٹرن کی خودکار جانچ اور IRIS پر اطلاع (قاعدہ 38B) — ایف بی آر کیا تجویز کر رہا ہے
یہ ایک مسودہ (DRAFT) ہے، ابھی قانون نہیں۔ ایف بی آر نے 6 اکتوبر 2026 کی تاریخ والا مسودہ نوٹیفکیشن S.R.O. 1690(I)/2026 اعتراضات اور تجاویز کے لیے شائع کیا ہے۔ اس میں انکم ٹیکس رولز میں نیا قاعدہ 38B تجویز کیا گیا ہے۔ یہ قاعدہ بتاتا ہے کہ فائل شدہ ریٹرن کو ایک خودکار سسٹم کیسے جانچے گا اور غلطی ملنے پر IRIS کے ذریعے آپ کو کیسے اطلاع دے گا۔ جب تک حتمی نوٹیفکیشن نہ آئے، یہ طریقہ کار نافذ نہیں ہے، اور حتمی متن مسودے سے مختلف ہو سکتا ہے۔
یہ مضمون قانون کی معلومات ہے، ٹیکس کا مشورہ نہیں۔ SwiftKhata ریٹرن فائل نہیں کرتا، ٹیکس کا حساب نہیں لگاتا، اور ایف بی آر سے integrated نہیں ہے۔
مسودہ کیا تجویز کرتا ہے
مجوزہ قاعدہ 38B(1) کے مطابق ریٹرن پراسیس کرنے کے لیے ایک خودکار سسٹم ہوگا، جس میں "CRM" بھی شامل ہے (یہ مخفف مسودے میں ہی اسی طرح لکھا ہے)۔ قاعدہ 38B(2) کہتا ہے:
"The system may make the intimation of issues detected, through an online advice or advance intimation sent through IRIS, pointing out the factual, legal mistakes or discrepancies, aimed at allowing the taxpayer to clarify the issue, rectify the errors pointed out by the system or take other corrective action before any legal or penal action is initiated."
یعنی مسودے کے مطابق قانونی یا جرمانے کی کارروائی سے پہلے سسٹم IRIS پر اطلاع دے سکتا ہے، تاکہ ٹیکس دہندہ وضاحت کرے یا غلطی درست کرے۔ یہی اطلاع متعلقہ ان لینڈ ریونیو افسر بھی بھیج سکتا ہے (38B(3))۔
جواب کا وقت
- اطلاع میں جواب کی مدت لکھی ہوگی، اور مسودے کے مطابق یہ مدت سات دن سے کم نہیں ہوگی (38B(4))۔ سات دن کم از کم حد ہے۔ اصل مدت وہی ہوگی جو اطلاع میں لکھی ہو، اس لیے اطلاع غور سے پڑھیں۔
- اگر مقررہ وقت میں جواب نہ آئے تو مسودے کے مطابق ایک یاد دہانی (reminder) بھیجی جائے گی، اور اس کی مدت بھی سات دن سے کم نہیں ہوگی (38B(5))۔ یہ ایک الگ مرحلہ ہے، پہلی مدت میں اضافہ نہیں۔
اس کے بعد کیا ہوتا ہے
- ملنے والی غلطیاں، بھیجی گئی اطلاع اور آپ کا جواب آپ کے متعلقہ افسر کو بھیجا جائے گا (38B(6))۔
- اطلاعات، جوابات اور کی گئی کارروائی سسٹم کے ڈیش بورڈ میں ریکارڈ ہوں گی (38B(7))۔
- مسودے کے مطابق یہ سسٹم ریٹرن کی "automated scrutiny, analysis and cross-matching of other available data" کرے گا (38B(8))۔ یعنی آپ کے ریٹرن کو دوسرے دستیاب ڈیٹا سے ملایا جائے گا۔
- آخری فیصلہ افسر کا ہے: وہ آپ کا جواب، یا جواب نہ آنے کی صورت، دیکھ کر ضرورت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کرے گا (38B(9))۔ سسٹم غلطی کی نشاندہی کرتا ہے؛ کارروائی افسر کرتا ہے۔
SwiftKhata کے بارے میں صاف بات
SwiftKhata ایف بی آر یا IRIS سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ IRIS کی اطلاع SwiftKhata میں نہیں آتی، اور SwiftKhata آپ کی طرف سے اس کا جواب نہیں دیتا۔ جواب آپ یا آپ کا ٹیکس کنسلٹنٹ IRIS پر ہی دے گا۔
ریکارڈ کی بات
اگر یہ طریقہ کار نافذ ہوا تو سوال یہ ہوگا کہ اطلاع ملنے پر آپ مقررہ مدت میں اپنی بات ثابت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے لیے پچھلے سال کی فروخت، خریداری، اخراجات اور ادھار کا ریکارڈ فوراً نکالنا پڑتا ہے۔ جو دکاندار اپنا حساب روز لکھتا ہے، اس کے لیے یہ اعداد اپنے کنسلٹنٹ کو دینا آسان ہوتا ہے۔ کون سا ریکارڈ ہاتھ میں ہونا چاہیے: ریٹرن سے پہلے: دکاندار کے کھاتے میں یہ چھ چیزیں۔
حتمی نوٹیفکیشن اور تازہ ہدایات fbr.gov.pk پر دیکھیں، اور کوئی اطلاع ملے تو اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ سے رابطہ کریں۔
حوالہ (ایف بی آر کا اصل متن، 18 اکتوبر 2026 کو پڑھا گیا)
- مسودہ S.R.O. 1690(I)/2026، 6 اکتوبر 2026 — انکم ٹیکس رولز میں مجوزہ قاعدہ 38B۔ نمبر ایف بی آر کی SRO فہرست سے لیا گیا ہے، کیونکہ PDF پر نمبر کی سکین صاف نہیں۔