
ریکارڈ 57 لاکھ ریٹرن، مگر 43 لاکھ دکانداروں میں سے صرف 6 لاکھ فائلر
یہ مضمون معلومات کے لیے ہے، ٹیکس کا مشورہ نہیں۔ نیچے دیے گئے اعداد ایف بی آر کے ہیں جیسا کہ ڈان اخبار نے یکم اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیے؛ ہم نے انہیں ایف بی آر کی کسی دستاویز سے خود نہیں پڑھا۔ SwiftKhata ریٹرن فائل نہیں کرتا اور ایف بی آر سے جڑا ہوا نہیں ہے۔
ریکارڈ تعداد میں ریٹرن
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کو 30 ستمبر 2026 کی آدھی رات تک 57 لاکھ 67 ہزار (5.767 ملین) ریٹرن موصول ہوئے، جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں 39 لاکھ 80 ہزار (3.980 ملین) — یعنی 45 فیصد اضافہ۔ رپورٹ کے الفاظ: "The board received 5.767 million returns until midnight on Sept 30, compared with 3.980m filed during the corresponding period last year, showing an increase of 45 per cent."
اسی رپورٹ میں ایک اور بات: ریٹرن کے ساتھ جمع ہونے والا ٹیکس 77.3 ارب روپے رہا، جو پچھلے سال کے 83.3 ارب روپے سے تقریباً 7 فیصد کم ہے — "despite the surge in filers"۔ یعنی ریٹرن زیادہ آئے، مگر ان کے ساتھ ٹیکس کم۔
دکاندار کہاں کھڑے ہیں؟
اسی دن سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ میں، ڈان کے مطابق، ایف بی آر کے ممبر حامد عتیق سرور نے بتایا کہ ملک کے 43 لاکھ ریٹیلرز میں سے صرف 6 لاکھ فائلر ہیں — یعنی تقریباً ہر سات دکانداروں میں سے ایک۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کا جملہ بھی رپورٹ میں ہے: "Retailers believe nothing happens if they do not file returns. Until this perception changes, compliance will not improve."
ریکارڈ ریٹرن اور دکانداروں کی کم تعداد ایک ساتھ دیکھیں تو تصویر یہ بنتی ہے کہ فائل کرنے والوں کی بڑی تعداد ابھی بھی دکانوں سے باہر ہے۔
پہلی بار فائل کرنے والے دکاندار کی اصل مشکل
ہماری نظر میں، جو دکاندار پہلی بار ریٹرن کی طرف آتا ہے اس کی سب سے بڑی رکاوٹ پورٹل یا فارم نہیں ہوتا — وہ سال بھر کا حساب ہوتا ہے: کتنی بِکری ہوئی، کتنی خریداری، کتنا اُدھار باقی، کتنے خرچے، اور سال کے آخر میں کتنا مال پڑا تھا۔ کاغذی کھاتے سے یہ سب چند دنوں میں جوڑنا تقریباً ناممکن ہے؛ جو سال روز کے روز لکھا گیا ہو، اس میں یہ اعداد پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
کون سے چھ ریکارڈ ہاتھ میں ہونے چاہئیں اور SwiftKhata میں وہ کہاں ملتے ہیں، یہ ہم نے الگ لکھا ہے: ریٹرن سے پہلے: دکاندار کے کھاتے میں یہ چھ چیزیں ہونی چاہئیں۔
تاریخ
ٹیکس سال 2026 کے لیے ریٹرن کی تاریخ ایف بی آر کے سرکلر نمبر 3 بابت 2026-27 (سیکشن 214A) کے تحت 15 اکتوبر 2026 ہے، ان لوگوں کے لیے جنہیں 30 ستمبر 2026 تک فائل کرنا تھا۔ تاریخیں بدل سکتی ہیں — موجودہ تاریخ ہمیشہ fbr.gov.pk پر خود دیکھیں۔ اس تاریخ کے بعد فائل کرنے پر قانون کیا کہتا ہے (ATL اور سیکشن 182A)، وہ یہاں ہے: 15 اکتوبر 2026 کے بعد ریٹرن فائل کیا تو؟