
فیس لیس آڈٹ: SRO 1828 کے بعد قواعد ہر کیس پر نافذ — مگر کیس کون سا جائے گا؟
یہ مضمون قانون کی معلومات ہے، ٹیکس کا مشورہ نہیں۔ آپ کے کیس پر کیا لاگو ہوتا ہے، یہ اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ یا ٹیکس آفس سے طے کریں۔ SwiftKhata ریٹرن فائل نہیں کرتا، ٹیکس کا حساب نہیں لگاتا، IRIS یا ایف بی آر سے جڑا ہوا نہیں ہے اور آڈٹ یا نوٹس کا کوئی کام نہیں کرتا۔
ایف بی آر نے 15 اکتوبر 2026 کو ایک مختصر نوٹیفکیشن، S.R.O. 1828(I)/2026، جاری کیا۔ اس کے بعد انکم ٹیکس رولز کا نیا باب "فیس لیس آڈٹ اور اسسمنٹ" نافذ ہو گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں سب سے اہم بات وہ ہے جو ایف بی آر نے نہیں کی: قاعدہ اسے یہ باب مرحلہ وار نافذ کرنے کی اجازت دیتا تھا، مگر ایف بی آر نے اسے سب پر ایک ساتھ لاگو کر دیا۔ یہ بات دونوں نوٹیفکیشن ساتھ پڑھنے سے ہی سمجھ آتی ہے۔
پہلا نوٹیفکیشن: نیا باب (29 ستمبر 2026)
S.R.O. 1665(I)/2026 نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں نیا باب XX — Faceless Audit and Assessment شامل کیا۔ اس کا مسودہ 25 ستمبر 2026 کو S.R.O. 1651(I)/2026 کے ذریعے شائع ہوا تھا۔ اس باب کا قاعدہ 233(2) کہتا ہے:
"The provisions of this Chapter shall come into force on such date as the Board may by notification in the official Gazette specify, and different dates may be specified for different classes of cases or different proceedings."
یعنی ایف بی آر چاہتا تو مختلف قسم کے کیسوں یا مختلف کارروائیوں کے لیے الگ الگ تاریخیں رکھ سکتا تھا۔
دوسرا نوٹیفکیشن: سب پر ایک ساتھ (15 اکتوبر 2026)
S.R.O. 1828(I)/2026 کا پورا متن ایک جملہ ہے:
"… the provisions of Chapter XX of the said Rules, shall come into force, for every person or case, with effect from the 15th day of October, 2026."
الگ تاریخوں کی بجائے "for every person or case"۔ ہم نے نوٹیفکیشن کی PDF پر لکھی تاریخ، 15 اکتوبر 2026، لی ہے۔ ایف بی آر کی SRO فہرست میں یہی نوٹیفکیشن 14 اکتوبر کی تاریخ کے ساتھ درج ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر آڈٹ اب فیس لیس ہے
یہاں احتیاط ضروری ہے۔ قاعدہ 233(1) اور قاعدہ 237(1) کے مطابق یہ باب انہی کیسوں پر چلتا ہے جو ایف بی آر انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122E(2) کے تحت نیشنل فیس لیس سینٹر کو دے۔ قواعد اب ہر شخص کے لیے نافذ ہیں، مگر کون سا کیس سینٹر جائے گا، یہ فیصلہ ابھی بھی بورڈ کا ہے۔ اس مضمون کی تاریخ تک ہم نے سیکشن 122E(2) کے تحت کیسوں کی کوئی فہرست یا تفصیل نہیں دیکھی۔ اس لیے ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ کا کیس فیس لیس ہو چکا ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ آڈٹ کمپیوٹر نہیں کرتا۔ قواعد میں ایک "allocation algorithm" ہے، جس کا کام کیس کو سینٹر کے کسی یونٹ کے حوالے کرنا ہے۔ سینٹر میں ڈائریکٹر جنرل، چیف کمشنر، کمشنر، ایڈیشنل، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنر اور سیکشن 207 کے دوسرے انکم ٹیکس افسران ہوں گے (قاعدہ 235)۔ ہر یونٹ کا انچارج ایک افسر ہوگا۔
ایک اور بات: 15 اکتوبر 2026 ریٹرن کی آخری تاریخ بھی تھی۔ یہ دو الگ معاملے ہیں۔ SRO 1828 میں ریٹرن کا کوئی ذکر نہیں، اور دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
جو کیس سینٹر کو جائے، اس میں قواعد کے مطابق کیا بدلتا ہے
- کون سی کارروائیاں: سیکشن 177 یا 214C کا آڈٹ، سیکشن 111 کی کارروائی، اور سیکشن 120، 121 اور 122 سمیت اسسمنٹ (قاعدہ 236)۔
- نوٹس پر DIN: سینٹر کا ہر نوٹس اور آرڈر ایف بی آر کے کمپیوٹر سسٹم سے بنے گا اور اس پر Digital Identification Number (DIN) ہوگا (قاعدہ 238)۔
- جواب صرف IRIS سے: ٹیکس دہندہ یا اس کے نمائندے کا ہر جواب، دستاویز اور ثبوت IRIS پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے جائے گا۔ جہاں ضرورت ہو، دستاویزات ایف بی آر کے بتائے ہوئے فارمیٹ میں الیکٹرانک طور پر دینی ہوں گی (قاعدہ 239)۔
- تین الگ افسر: ایک ہی کیس اور ایک ہی ٹیکس سال میں آڈٹ، اسسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول الگ الگ افسر یا یونٹ کریں گے (قاعدہ 237(2))۔
- افسر کا نام نہیں بتایا جائے گا: افسر کی شناخت ایف بی آر کے سسٹم میں ریکارڈ رہے گی مگر ٹیکس دہندہ کو نہیں بتائی جائے گی (قاعدہ 237(3))۔ سماعت اور حلفیہ بیان E-hearing کے ذریعے ہوں گے (سیکشن 122E(3))۔
- دکان پر آنا: اگر کاروبار کا سائز یا اثاثے موقع پر دیکھنے ہوں تو افسر وجہ لکھ کر چیف کمشنر کو درخواست دے گا۔ منظوری پر فیلڈ آپریشنز ونگ تصدیق کرے گا (قاعدہ 241)۔
ریکارڈ کی بات
جس کیس میں ساری بات چیت تحریری اور IRIS کے ذریعے ہو، اس میں سامنے بیٹھ کر وضاحت کا موقع نہیں ملتا۔ آپ کی بات وہی ہے جو کاغذ پر ہے۔ اسی لیے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ دکان کی سال بھر کی فروخت، خریداری اور ادھار کتنا تھا، اور اس کا ریکارڈ صاف ہو۔ کون سی چیزیں ہاتھ میں ہونی چاہئیں: ریٹرن سے پہلے: دکاندار کے کھاتے میں یہ چھ چیزیں۔
اگر آپ کو نوٹس ملے تو اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ سے رابطہ کریں، اور تازہ ہدایات ہمیشہ fbr.gov.pk پر دیکھیں۔