
ایف بی آر کی 1٪ فکسڈ ٹیکس سکیم: کیا آپ کی دکان واقعی اہل ہے؟
یہ مضمون ٹیکس کی معلومات ہے، ٹیکس کا مشورہ نہیں۔ اپنی صورتحال کے لیے کسی ٹیکس کنسلٹنٹ یا اپنے قریبی ٹیکس آفس سے تصدیق کریں۔
سکیم کیا ہے؟
ایف بی آر نے چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک نئی، سادہ ٹیکس سکیم جاری کی ہے: ایک صفحہ، ایک ریٹرن، ایک فیصد۔ اس میں آپ اپنے سالانہ ٹرن اوور (کل سیل) کا ایک فیصد ٹیکس دیتے ہیں، اور کم از کم رقم 25,000 روپے ہے چاہے ٹرن اوور جتنا بھی کم ہو۔ سکیم میں شامل دکاندار کو روٹین آڈٹ، سیلز ٹیکس POS انٹیگریشن اور ڈیجیٹل انوائسنگ کی شرط سے چھوٹ ملتی ہے، اور رجسٹرڈ دکان کے باہر لگانے کے لیے ایک "گرین پلیٹ" دی جاتی ہے۔
سب سے اہم بات: یہ سکیم رضاکارانہ ہے۔ آپ چاہیں تو عام طریقے سے ریٹرن فائل کرتے رہیں، چاہیں تو اس سکیم میں آ جائیں۔ ایف بی آر اس مہینے دکانداروں سے اس میں شامل ہونے کی اپیل کر رہا ہے، لیکن اخباری رپورٹس میں کوئی آخری تاریخ نہیں بتائی گئی۔
اصل سوال: کیا آپ اہل ہیں؟
زیادہ تر خبروں میں صرف "ایک فیصد" کی بات ہوتی ہے، لیکن فیصلہ اخراج کی شرطوں (exclusions) سے ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے حتمی نوٹیفکیشن (S.R.O. 1166(I)/2026، 27 جولائی 2026) کے مطابق یہ سکیم ان پر لاگو نہیں ہوتی:
- جن کا ٹرن اوور پچھلے تین سالوں میں کسی بھی ایک سال 20 کروڑ روپے (200 ملین) سے زیادہ رہا ہو
- جن کی ایک سے زیادہ دکانیں ہوں
- ٹیئر ون (Tier-I) ریٹیلرز
- زیورات بیچنے والے
- پروفیشنل سروسز دینے والے، جیسے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل
مسودے میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر آپ نے ٹیکس سال 2025 کا ریٹرن فائل کیا تھا تو آپ اس سکیم میں تب آ سکتے ہیں جب آپ کا نیا ٹیکس 2025 سے کم نہ ہو، اور آپ نے سکیم کا فائدہ لینے کے لیے کاروبار تقسیم یا نام تبدیل نہ کیا ہو۔ یہ شرطیں حتمی نوٹیفکیشن S.R.O. 1166(I)/2026 (27 جولائی 2026، fbr.gov.pk پر شائع شدہ) میں لفظ بہ لفظ موجود ہیں، جو پہلے مسودے S.R.O. 1109 کے طور پر شائع ہوا تھا۔ پھر بھی اپنی اہلیت کی تصدیق اپنے ٹیکس آفس یا ٹیکس کنسلٹنٹ سے ضرور کریں۔
ایک فیصد ہمیشہ سستا نہیں ہوتا
یہ سکیم ٹرن اوور پر ٹیکس لگاتی ہے، منافع پر نہیں۔ جس دکان کا مارجن کم ہو (مثلاً کریانہ، جہاں 100 روپے کی سیل پر چند روپے بچتے ہیں) وہاں کل سیل کا ایک فیصد عام طریقے سے بننے والے ٹیکس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور 25,000 روپے کم از کم ہر حال میں دینا ہے۔ اس لیے یہ سہولت ضرور ہے، مگر ایک حساب کے ساتھ۔
فیصلہ کرنے سے پہلے ایک چیز ضرور جانیں
دونوں راستوں کا موازنہ کرنے کے لیے آپ کو ایک ہی نمبر چاہیے: آپ کا سال بھر کا اصل ٹرن اوور۔ اندازے سے نہیں، ریکارڈ سے۔ جس دکان کا روزانہ کا حساب لکھا ہوا ہے، وہ دو منٹ میں دیکھ سکتی ہے کہ ایک فیصد کتنا بنتا ہے اور کیا یہ سکیم اس کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔ SwiftKhata یہاں آپ کو سکیم میں شامل نہیں کرتا اور نہ ہی ڈیجیٹل انوائسنگ کرتا ہے (سکیم کا مقصد ہی یہ ہے کہ اہل دکاندار کو اس کی ضرورت نہ رہے)؛ اس کا کام صرف اتنا ہے کہ آپ کی سیل، خریداری اور کھاتہ ایک جگہ درج ہو، تاکہ جب فیصلے کا وقت آئے تو نمبر آپ کے پاس موجود ہو۔
Short version (Roman Urdu / English)
- Kya hai: 1% of annual turnover, minimum Rs 25,000, no routine audit, no POS integration, no digital invoicing. Green plate for the shop. Voluntary.
- Kaun ahal nahi: turnover over Rs 200 million in any of the last 3 years, more than one shop, Tier-I retailers, jewellers, professionals (doctors, engineers, lawyers). Source: the final notification S.R.O. 1166(I)/2026 of 27 July 2026 on fbr.gov.pk (clause 2), which repeats the draft S.R.O. 1109(I)/2026 word for word; Dawn's report of the notification and KPMG Pakistan's July tax alert list the same exclusions.
- Trade-off: tax is on sales, not profit. For a thin-margin shop 1% of turnover can be more than normal-regime tax. Do the sum first.
- No deadline has been announced in press coverage. Confirm your own eligibility with a tax consultant or your tax office.
Sources: Dawn, "Shopkeepers asked to opt for fixed tax scheme", 9 September 2026; Business Recorder, "CCIR explains fixed tax scheme at LCCI"; FBR notification S.R.O. 1166(I)/2026 dated 27 July 2026 and draft S.R.O. 1109(I)/2026 (both on fbr.gov.pk); FBR spokesperson announcement of 29 July 2026; KPMG Pakistan Tax Alert, July 2026.